اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ امام خمینی، امام خامنہ ای اور امام موسیٰ صدر کے بتائے ہوئے راستے پر ثابت قدمی سے قائم ہے۔ انہوں نے مزاحمت کے شہداء اور زخمیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے نبرد اولیٰ البأس میں 3400 شہداء اور 14600 زخمیوں کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی جارحیت کے خلاف مزاحمت ایک اسلامی، قومی اور انسانی فریضہ ہے اور قابضین کے مکمل انخلا اور تمام مقبوضہ علاقوں کی آزادی تک جاری رہے گی۔ ان کے مطابق شہداء کے مقاصد سے وفاداری، فلسطین کی آزادی، اسلامی اتحاد اور قومی ہم آہنگی مزاحمت کے بنیادی اصول ہیں۔
شیخ نعیم قاسم نے حزب اللہ کی مسلح مزاحمت پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت نے دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنایا اور لبنان میں قبضے اور صہیونی بستیوں کے قیام کے منصوبے کو آگے بڑھنے سے روکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت کی حکمت عملی میں فوجی صلاحیتوں اور جنگی رازوں کو محفوظ رکھنا بھی شامل ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ صہیونی حکومت کے سامنے تسلیم ہونا صرف جنگ کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ لبنان میں امریکی سرپرستی قبول کرنے اور اسرائیل عظیم کے منصوبے کی راہ ہموار کرنے کے مترادف ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی لبنان ملک کا بنیادی ستون ہے اور اس کی ایک ایک انچ زمین کا دفاع مزاحمت کے لیے سرخ لکیر ہے۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ مزاحمت اور عوام کی فعال مزاحمت کے بغیر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کا مقصد لبنان کی قومی طاقت کو کمزور کرنا، داخلی انتشار پیدا کرنا اور ملک کو بیرونی طاقتوں کی پالیسیوں کا تابع بنانا ہے۔
انہوں نے لبنان کی حکومت اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ سات ادوار کی بات چیت کے باوجود کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق مذاکرات لبنان کی خودمختاری، آئین، طائف معاہدے اور اپنی سرزمین کو آزاد کرانے کے حق سے متصادم نہیں ہونے چاہئیں۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ اگر اسرائیل مقبوضہ علاقوں سے پیچھے ہٹتا ہے تو یہ کسی معاہدے کا نتیجہ نہیں بلکہ مزاحمت کی ثابت قدمی اور دشمن کی ناکامی کا نتیجہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ بے گھر افراد کی مدد اور لبنان کی تعمیر نو کے لیے بھی اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
شیخ نعیم قاسم نے ایران کے حوالے سے کہا کہ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای مزاحمت کی علامت اور نمونہ بن گئے اور ایران نے اپنے رہنما، کمانڈروں اور عوام کی قربانیاں پیش کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آیت اللہ سیدمجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران اپنا راستہ جاری رکھے گا اور مزاحمت کی حمایت اور فلسطینی عوام کے دفاع پر قائم رہے گا۔
انہوں نے فلسطینی عوام کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین مزاحمت اور استقامت کی علامت ہے اور فلسطینی اپنے حقِ خودارادیت اور اپنی سرزمین میں زندگی گزارنے کے حق پر قائم ہیں۔
شیخ نعیم قاسم نے یمن کی انصار اللہ اور عوام کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ یمن فلسطین، ایران اور لبنان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
انہوں نے ایران کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر حملہ، محاصرہ اور دباؤ کا مقصد تسلط اور کنٹرول مسلط کرنا ہے۔ ان کے بقول، غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں اور امریکہ کی حمایت کے باعث اسرائیل کی کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ اقوام متحدہ کا منظرنامہ اسرائیل کی عالمی سطح پر بڑھتی مخالفت کو ظاہر کرتا ہے اور ایران کی مزاحمت اور اس کے مؤقف کو سراہا۔
آپ کا تبصرہ